مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی نائب وزیرِ زراعت مجید آنجفی نے کرج میں واقع ادارۂ تحقیقاتِ پودوں اور بیجوں میں منعقدہ سالِ زراعت کے آغاز کی قومی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق جو کی درآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بیجوں کی پیداوار کے عمل میں نجی شعبے کی شمولیت ایک خوش آئند پیش رفت ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس شعبے کا حصہ مزید بڑھے گا۔
آنجفی نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھیوں نے تحقیقی مراکز اور نجی شعبے میں جو محنت کی ہے، اس کے نتیجے میں اب ملک کے تمام آب و ہوا والے علاقوں کے لیے گندم کی 169 مختلف اقسام متعارف کروائی جا چکی ہیں۔ ان میں ایسی اقسام بھی شامل ہیں جو زمین کی شورزدگی کے خلاف مزاحمت، خشک سالی کو برداشت کرنے اور زیادہ پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں جو کی صرف 74 اقسام کاشت کی جا رہی ہیں۔
آنجفی نے یاد دلایا کہ ملک بھر میں مختلف طریقوں سے ایک ہزار سے زیادہ کھیتوں میں اشتراکی کاشت کا منصوبہ بھی نافذ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ زرعی سال میں خوش قسمتی سے کیے گئے اقدامات کی بدولت ملک میں پیدا ہونے والی گندم کا معیار مختلف پیمانوں کے لحاظ سے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مسلسل بہتر ہوا ہے۔
ایرانی نائب وزیرِ زراعت نے کہا کہ ملک میں پیدا ہونے والی گندم میں پروٹین کی مقدار کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے اور اس وقت لیے گئے نمونوں میں پروٹین کی اوسط مقدار 13 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ گیلی گلوٹن کی مقدار میں بھی اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
آنجفی نے مزید کہا کہ تحقیقی اداروں کے تعاون سے تیار کردہ تمام موسمِ خزاں کی فصلوں سے متعلق تکنیکی منصوبے اور ہدایات صوبوں کو ارسال کر دی گئی ہیں۔
آپ کا تبصرہ